ایک لیڈر، ایک جدوجہد: سابق وزیراعظم عمران خان کا پاکستان کے نام سفر
پاکستان کی سیاست میں سابق وزیراعظم عمران خان کا نام ایک ایسے باب کی طرح ہے جس نے ہر طبقہ فکر کو گہرائی سے متاثر کیا۔ ان کا یہ سفر صرف ایک معروف کرکٹر سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی طویل اور متواتر جدوجہد ہے جس میں ملک کی ترقی کے خواب اور عوام کے ساتھ خلوص شامل تھا۔
ایک ولولہ انگیز سیاسی سفر اور پابندِ سلاسل زندگی
سابق وزیراعظم عمران خان کا سیاسی سفر ہمیشہ سے ایک ہی مرکز کے گرد گھومتا رہا: ایک ایسا خوددار پاکستان جو غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ کرکٹ کے میدان سے سیاست کے میدان تک، ان کا ہر قدم چیلنجوں اور کٹھن راستوں سے گزرا۔ لیکن آج، جب وہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب چھوڑنے کے بعد ایک جھوٹے اور بے بنیاد کیس کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں، تو یہ منظر دیکھ کر دل میں ایک کسک سی اٹھتی ہے کہ جس شخص نے اپنی جوانی اور پوری زندگی اس ملک کے لیے وقف کر دی، آج وہ اسی نظام کا پابندِ سلاسل ہے۔
صحت کی تشویشناک حالت اور ملاقاتوں پر پابندی
آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ شدید بیماری کی حالت میں قید کاٹ رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کی بینائی سے متعلق بھی تشویشناک خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پچھلے چار سے پانچ مہینے سے ان کے اہل خانہ (جیسے ان کی بہنیں) اور ان کی سیاسی ٹیم کے کسی بھی فرد کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، اور انہیں مکمل تنہائی میں قید کر کے رکھا گیا ہے۔
کرونا کی وبا اور عوام کے لیے ڈھال
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب پوری دنیا کرونا جیسی ہولناک وبا کی لپیٹ میں تھی اور بڑی بڑی معاشی طاقت رکھنے والے ممالک کی معیشتیں زمین بوس ہو رہی تھیں، تب پاکستان کے حالات بھی انتہائی نازک اور خوفناک تھے۔ ایسے مشکل ترین وقت میں، جب وہ ملک کے وزیراعظم کے منصب پر فائز تھے، انہوں نے ایک سچے محافظ کی طرح ذمہ داری نبھائی۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کو بدترین معاشی تباہی سے بچایا بلکہ احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں کے گھر گھر راشن پہنچایا اور لاکھوں خاندانوں کو ماہانہ 12 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کی تاکہ کوئی بھی محنت کش یا غریب بھوکا نہ سو سکے۔
عوام دوستی کی انوکھی مثال: کرایہ معافی کی اپیل
کرونا کے دنوں کے وہ کٹھن لمحات بھی سب کو یاد ہیں جب انہوں نے ایک ایسا انوکھا اور انسانی قدم اٹھایا جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ جب لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقے کے پاس روٹی کے پیسے نہیں تھے، تب انہوں نے ٹیلی ویژن پر براہِ راست پریس کانفرنس کرتے ہوئے مکان کے مالکان سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی کہ وہ ان غریب کرائے داروں سے کرایہ طلب نہ کریں جو اپنی روزی روٹی سے مکمل طور پر محروم ہو چکے ہیں۔ یہ ایک ایسے سربراہِ مملکت کی پہچان تھی جو اپنی عوام کے ہر درد کو اپنا ذاتی درد سمجھتا تھا۔
صحت کارڈ: ایک تاریخی اور انقلابی تحفہ
بطور وزیراعظم عمران خان کا سب سے شاندار اور یادگار کارنامہ صحت کارڈ کا اجرا تھا۔ یہ صرف ایک پلاسٹک کا چھوٹا سا کارڈ نہیں تھا، بلکہ ان لاکھوں غریب خاندانوں کے لیے زندگی اور بقا کی ضمانت تھا جو مہنگے علاج کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ جگر کی پیوند کاری ہو، کینسر کا پیچیدہ علاج ہو، گردوں کی بیماری ہو یا کوئی اچانک پیش آنے والا حادثہ، صحت کارڈ نے سرکاری اور نامور نجی ہسپتالوں کے دروازے غریب عوام کے لیے بالکل مفت کھول دیے۔ اس کارڈ کی بدولت نہ صرف علاج کا تمام بھاری خرچہ سرکاری خزانے سے ادا ہوتا تھا، بلکہ ہسپتال آنے جانے کا کرایہ اور ادویات کی قیمتیں بھی اسی سے چکائی جاتی تھیں تاکہ عام آدمی کو ہسپتال کے کاؤنٹر پر خود کو کبھی بے بس محسوس نہ کرنا پڑے۔
عوام سے ایک گلہ اور دعا کی اپیل
آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو یہ سوچ کر شدید دکھ ہوتا ہے کہ انہوں نے جس شدت اور اخلاص سے اس ملک اور عام عوام سے محبت کی، کیا اس وقت کے عوام نے اس طرح ان کا ساتھ دیا جس کی اس وقت ضرورت تھی؟ کیا ہم نے اس کٹھن وقت میں ان کی اس عظیم جدوجہد کی قدر کی جب وہ ملک کے ہر کرپٹ مافیا کے خلاف تنِ تنہا دیوار بنے کھڑے تھے؟
سابق وزیراعظم عمران خان کا یہ سفر آج بھی جاری ہے، چاہے حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں اور وہ اس وقت جیل میں ہی کیوں نہ قید ہوں۔ تمام پاکستانیوں سے عاجزانہ اپیل ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کی صحت، تندرستی اور لمبی زندگی کے لیے دل سے دعا کریں۔ یہ کہانی صرف ایک سیاستدان کی نہیں، بلکہ اس لازوال اخلاص اور لگن کی ہے جو ایک رہنما نے اپنی قوم کے لیے اپنے دل میں بسا رکھی تھی۔
Comments
Post a Comment