تین کافر اور ایک سچا مسلمان: ایمان کی روشنی
ایک پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک قافلہ طویل سفر پر روانہ ہوا۔ اس قافلے میں چار مسافر شامل تھے—جن میں سے تین
کافر (غیر مسلم) تھے اور چوتھا ایک پکا اور سچا مسلمان تھا، جن کا نام شہزاد تھا۔ سفر کے دوران یہ چاروں ایک ویران اور انجان راستے پر نکل آئے جہاں دور دور تک کوئی آبادی نہیں تھی۔
راستہ بہت کٹھن تھا اور شدید گرمی کی وجہ سے سب کے پاس موجود پانی ختم ہو چکا تھا۔ وہ سب پیاس سے نڈھال ہو رہے تھے کہ اچانک انہیں دور ایک چشمہ نظر آیا۔ خوشی کے مارے ان کی جان میں جان آ گئی اور وہ دوڑتے ہوئے اس چشمے کے پاس پہنچے۔
جب انہوں نے پانی پینا چاہا تو وہاں ایک خطرناک ڈاکو آ دھمکا۔ اس نے تینوں کافروں کو گھیر لیا اور دھمکی دی کہ اگر اپنی جان بچانی ہے تو تمہاری جیب میں جتنا بھی قیمتی سامان اور سونا ہے، وہ سب میرے حوالے کر دو۔
ان تینوں کافروں نے خوفزدہ ہو کر اپنے پاس موجود تمام اشرفیاں اور قیمتی سامان اس ڈاکو کے سامنے ڈھیر کر دیا۔ ڈاکو نے مال سمیٹا اور شہزاد کی طرف دیکھا، جو ایک طرف سکون سے کھڑے تھے۔
ڈاکو نے غرور سے کہا: "ارے مسافر! تم نے اب تک اپنا مال کیوں نہیں نکالا؟ کیا تمہیں اپنی جان پیاری نہیں ہے؟"
شہزاد نے انتہائی پُرسکون اور باوقار لہجے میں جواب دیا: "میرے پاس جو مال تھا، وہ میں نے اس قافلے کے غریبوں اور مسکینوں میں پہلے ہی تقسیم کر دیا تھا۔ میرے پاس اس وقت مال تو نہیں ہے، مگر ہاں، میرے پاس ایک امانت ہے جو مجھے میرے رب نے دی ہے، اور وہ ہے میرا ایمان اور سچائی۔ میں جھوٹ بول کر اپنی جان تو بچا سکتا ہوں، لیکن جھوٹ میرے دین میں گناہِ کبیرہ ہے۔ میں مرنا پسند کروں گا مگر جھوٹ نہیں بولوں گا۔"
ڈاکو شہزاد کی اس بے باک سچائی، چہرے کے نور اور بہادری کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے زندگی میں کبھی اتنی جرات نہیں دیکھی تھی کہ موت سامنے کھڑی ہو اور انسان سچ بول رہا ہو۔
ڈاکو کے دل پر اس بات کا ایسا اثر ہوا کہ اس کا ہاتھ کانپ گیا۔ اس نے سارا لوٹا ہوا مال واپس زمین پر پھینک دیا اور شرمندہ ہو کر کہا: "تمہیں دیکھ کر مجھے اپنے گناہوں پر ندامت ہو رہی ہے۔ جاؤ، میں تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو معاف کرتا ہوں!"
یہ سب منظر وہ تینوں کافر بڑی حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے زندگی میں دولت کے لیے جھگڑتے اور جھوٹ بولتے لوگوں کو دیکھا تھا، مگر آج انہوں نے ایک ایسے مسلمان کو دیکھا جس کی سچائی، بہادری اور دیانتداری نے ایک ظالم ڈاکو کا دل بھی موم کر دیا۔
جب وہ تینوں اپنے خیمے میں واپس آئے، تو ان میں سے ایک نے کہا: "بھائی، ہم نے آج تک ایسی اعلیٰ اخلاقیات اور سچائی کہیں نہیں دیکھی۔ اس مسلمان کی بہادری اور دیانتداری نے بتا دیا کہ اس کا دین کتنا سچا ہے۔"
دوسرے نے کہا: "ہاں! اس نے موت کے سامنے بھی سچ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ یہی تو اصل انسان کی پہچان ہے۔"
تیسرے نے پکار کر کہا: "پھر دیر کس بات کی ہے؟ آؤ ہم سب بھی اسی سچے دین کو اپناتے ہیں۔"
اور یوں، اس اکیلے مسلمان کی سچائی، بہادری اور دیانتداری کو دیکھ کر وہ تینوں کافر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور انہوں نے زندگی بھر سچائی کے راستے پر چلنے کا پکا ارادہ کر لیا۔

Comments
Post a Comment