عشق کا سفر: بچپن کی چاہت سے ابدی ساتھ تک
ایک پرسکون اور سرسبز محلے میں دو ایسے گھر تھے جن کے آنگن آپس میں ملتے تھے۔ وہیں بچپن کی رنگین اور معصوم دنیا میں احمد اور زارا کی آنکھیں کھلی تھیں۔ احمد ذرا ہنستے مسکراتے مزاج کا تھا، جبکہ زارا ایک سلجھی ہوئی اور مسکراتی لڑکی تھی۔ دونوں کا بچپن ایک ساتھ گزرا، گلی کے موڑ پر کھیلنا، اسکول کا پیدل سفر کرنا اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر روٹھنا اور پھر فوراً مان جانا، ان کی روز کی عادت تھی۔
جیسے جیسے وقت گزرا اور وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے لگے، یہ بچپن کی دوستی ایک گہرے احساس میں بدل چکی تھی۔ دونوں کے دلوں میں ایک ہی تمنا تھی کہ جب وہ بڑے ہوں تو ان کا یہ ساتھ ہمیشہ کے لیے ایک رشتے میں بندھ جائے۔ ایک شام جب گھر کے صحن میں ہلکی سی روشنی تھی، احمد نے ہمت کر کے زارا سے کہہ ہی دیا، "زارا! اگر زندگی نے ساتھ دیا تو میں تمہیں اپنا ہمسفر بناؤں گا۔" زارا کا چہرہ شرم سے گلابی ہو گیا اور اس نے ہلکی سی ہامی بھر دی۔
دونوں کے گھر والوں کی رضامندی سے ان کی یہ بچپن کی محبت نکاح کے مقدس بندھن میں بدل گئی۔ ان کا نیا گھر محبت اور سکون کا گہوارہ بن گیا۔ وقت تیزی سے پرواز کرتا رہا، جوانی ڈھلتی گئی اور بڑھاپا آ گیا۔ انہوں نے ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھا۔ ان کے گھر میں ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے روحیں آپس میں جڑی ہوں۔
ایک شام جب یہ دونوں بوڑھے ہو چکے تھے، تو گھر کے برآمدے میں چائے کے کپ ہاتھ میں لیے بیٹھے تھے۔ مغرب کا وقت تھا اور آسمان پر خوبصورت رنگ بکھرے ہوئے تھے۔ باتیں کرتے کرتے زارا نے ہلکی سی آہ بھر کر احمد کا ہاتھ اپنے بوڑھے ہاتھوں میں مضبوطی سے تھام لیا اور کہا، "احمد! ہم نے زندگی تو اتنی خوبصورتی سے گزار لی، لیکن دل میں ایک ہی آخری حسرت ہے... اللہ سے دعا ہے کہ جب ہمارا جانے کا وقت آئے، تو ہم الگ نہ ہوں، بس چند لمحوں کے فاصلے پر ایک ساتھ اس دنیا سے جائیں۔"
احمد نے مسکرا کر زارا کی آنکھوں میں دیکھا اور اس کے ماتھے پر پیار دے کر کہا، "تمہاری یہ بات میرے دل کی آواز ہے۔ ہم نے جیا ساتھ ہے، تو رخصت بھی ایک ساتھ ہی ہوں گے۔"
کچھ ہی مہینوں بعد، قدرتی طور پر بڑھاپے کی کمزوری نے دونوں کو گھیر لیا۔ ایک سرد صبح، زارا کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ احمد اس کے بستر کے پاس بیٹھا تھا، اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے دعا کر رہا تھا۔ اچانک زارا نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کر لیں۔
احمد نے زارا کے چہرے کو دیکھا، اور پھر گہرا سانس لے کر اپنے بستر پر لیٹ گیا۔ اس نے دل ہی دل میں کہا، "بس زارا... میں آ رہا ہوں، زیادہ دیر اکیلی نہیں رہو گی!"
بس! ٹھیک چالیس منٹ بعد، جب گھر کے لوگ دونوں کے کمرے میں داخل ہوئے، تو احمد کی روح بھی اپنی شریکِ حیات کے پیچھے پیچھے اس دنیا سے پرواز کر چکی تھی۔ ان کا یہ انوکھا اور سچا عشق دنیا والوں کے لیے مثال بن گیا—ایسا پیار جو زندگی میں بھی ساتھ رہا اور موت کی دہلیز پر بھی ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

Comments
Post a Comment